ابنا: ڈاکٹرلاریجانی نے تہران میں صحافیوں کوانٹرویودیتےہوئےکہاکہ اقوام متحدہ اورعرب لیگ کےمشترکہ نمائندےکوفی عنانی کواپنےپروگرام کےمطابق شام میں دہشتگرد گروہوں کوغیرمسلح کرنےکےلئےقدم اٹھاناچاہئے کیونکہ اس ملک کی فوج شہروں سےنکل چکی ہے لہذا باغیوں کوبھی معاہدےپرعمل کرناچاہئے۔
ڈاکٹرلاریجانی نے کہاکہ اگرایسانہ ہوا تو دہشتگردانہ اقدامات اورگذشتہ دنوں ہونےوالےدھماکے پھرہوسکتےہیں۔
ڈاکٹرلاریجانی نےشیعہ سنی اختلافات کوھوا دینےکےسلسلےمیں مغربی ممالک کےکردارکی جانب اشارہ کرتےہوئےکہاکہ وہ نہ توشیعوں کےحامی ہيں اور نہ ہی سنیوں کےبلکہ اپنےمفادات کی فکرمیں ہیں اورمتحدہ عرب امارات کےحکام کوچاہئےکہ عاقلانہ قدم اٹھائیں اورخود کودوسروں کاآلہ کا ر نہ بنائيں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کےاسپیکرڈاکٹرلاریجانی نےبغداد اجلاس سےقبل تہران کےخلاف پابندیاں اٹھالئےجانےکےبارےمیں کہاکہ ہمیں انتظارکرناچاہئےکہ مذاکرات کس طرح آگےبڑھتےہيں ۔
واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کےمذاکرات تیئس مئی دوہزاربارہ کوبغداد میں ہوں گے ۔
.......
/169